لعل چوک :وادیٔ گل پوش میں

گاڑی کی رفتار ذرا کم ہوئی کہ اب شہر کی گہما گہمی میں ہم داخل ہو چکے تھے۔ سامنے سائن بورڈ پر اشارہ تھا…لعل چوک۔ جب سے کشمیر کی تاریخ سے دلچسپی بڑھی۔ خصوصاً گزشتہ بیس برسوں میں لعل چوک کے بہت تذکرے ہوئے۔اس پر جھنڈے لہرانے کے ان گنت دعوے سنے۔ سری نگر کا لعل چوک، لاہور کا موچی دروازہ، کراچی کا نشتر پارک، راولپنڈی کا لیاقت باغ، ملتان کا قاسم باغ، بنگلہ دیش کا پلٹن میدان اور اب مصر کا تحریر چوک سیاسی اورانقلابی جدو جہد کے استعارے ہیں۔

ان تاریخی مقامات کی ایک خاص اہمیت ہے۔ ان کا تذکرہ جب بھی آتا ہے، تو ایک انقلاب ، اضطراب اور ہلچل کا تصور ابھرتا ہے۔ان کے قریب سے گزریں، توبیتی تاریخ کے اَن گنت واقعات زندہ حقیقت کی صورت سامنے آتے ہیں۔ ان مقامات کے درودیوار کو اگر نطق و کلام کی صلاحیت ودیعت ہو تو وہ زندہ جاوید تاریخ بن جائیں۔لعل چوک بھی آزادی و حریت کا ایک استعارہ ہے، جس کے جلو میں کتنی کہی اور ان کہی داستانیں ہیں۔ یہ لعل چوک کیوں ہوا؟’’لال‘‘ اور’’لعل‘‘ میں بھی فرق ہے۔ ظاہری طور پر کسی لالی یا سرخی کا کوئی نشان اس پر ہویدا نہیں ہے۔ 

میں نے تحقیق بھی نہیں کی کہ اس کا نام لعل چوک کب اور کیوں پڑا البتہ مظلوموں، معصوموں اور حریت و آزادی کے لیے امر ہو جانے والوں کے معصوم خون کے چھینٹوں سے لعل چوک اور اس کے درودیوار کئی بار لال سرخ ہوئے۔ لہو سے لکھی گئی کتنی تحریر یں اس لعل چوک کے درو دیوار پر رقم ہیں۔ وہ تحریریں اور نشانات، ان مٹ ہیں۔ جالبؔ کا شعر یاد آیا: کوئی تو پرچم لے کر نکلے اپنے گریباں کا جالبؔ چاروں جانب سنّاٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں سوندھی سوندھی خوشبوکا لمس آ ج بھی فضا میں موجود ہے۔ اُسے محسوس کیا جا سکتا ہے۔ لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ اپنے قلب و روح کی گہرائیوں میں اتارا جا سکتا ہے۔

بشرطیکہ تاریخ وتہذیب کا حقیقی شعور اوردل کے کسی کونے کھدرے میں ایمان کی کوئی چنگاری موجودہو۔ لعل چوک سری نگر شہر کے مصروف ترین علاقے میں ہے۔ یہ بڑا تجارتی مرکز ہے۔ سڑک کشادہ اورچاروں طرف مارکیٹ ہے۔ مختلف اطراف سے آنے والی گلیاں اور سڑکیں لعل چوک سے مل جاتی ہیں۔ درمیان میں فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی طرح ایک مینار ایستادہ ہے۔ میں نے مختلف اوقات میں اس تاریخ ساز مقام کی زیارت کی ۔ کانفرنس کے دوران بھی نمازِ فجر کے بعد ہم ہوٹل سے پیدل لعل چوک تک آجاتے۔

سویرے سویرے کشمیر کے مختلف علاقوں کے لیے گاڑیاں اس چوک سے ہو کر گزرتی ہیں۔ وہی…چلو چلو کی صدا۔ مسافروں کے علاوہ گاڑیوں کی آمد و رفت سے ذرا قبل یہاں دو طرح کی مخلوق آوارہ گردی کرتی ہے۔ بھارتی سپاہی یا کتوں کی ٹولیاں۔ بظاہر تو لعل چوک عام مارکیٹوں کی طرح ایک مارکیٹ ہی ہے۔ اس کے اطراف میں شہروں اور بازاروں کی طرح پرانے ، گلے سڑے پھلوں اور سبزیوں کے ڈھیر پڑے رہتے ہیں۔ گاڑیوں کا دھواں اور شور بھی اضافی ہے۔ دکاندار معمول کے مطابق اپنے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں،لیکن ریاست کی تاریخ اور جدو جہد آزاد ی سے دلچسپی رکھنے والے کسی فرد کے لیے لعل چوک ایک عام مارکیٹ نہیں بلکہ ایک ارتعاش اور اضطراب کا پیمانہ ہے۔

ایستادہ مینار کے سائے میں کھڑے ہو کر ریاست کی جدو جہد آزادی کے نشیب و فراز کی سر گوشی محسوس کی جاسکتی ہے۔ یہ مینار اَن گنت واقعات و حوادث کا سچا گواہ ہے۔ روزِ محشر جب شجر و حجر کو نطق و کلام کا اذن ہو گا ،تو یہ مینار اپنے سائے میں گزرے واقعات کو بزبان خود بیان کرے گا۔ نعیم صدیقی کے جذبۂ بے تاب نے کتنی خوبصورت منظر کشی کی ہے: میں کیا بتاؤں کیسے سناؤں عجب انوکھا سا حادثہ ہے کھڑے کھڑے اپنے ہی وطن میں، میرا وطن مجھ سے چھن گیا ہے مرا یہ عالم کہ جیسے کوئی ملول راہی لٹا کھڑا ہے میں اپنے کھوئے ہوئے وطن کو، کہاں کہاں جاکے ڈھونڈ آیا میں رات دن قریہ قریہ گھوما مگر کہیں بھی پتا نہ پایا تھکا تحیر زدہ کھڑا ہوں—- لعل چوک میں گھومتے ہوئے وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتاتھا۔

کبھی ہم نماز فجر کے بعد چوک میں پہنچتے تھے اور آٹھ بج جاتے تھے۔ کبھی رات گئے تک گھومنے کا سلسلہ جاری رہتا۔ صفائی کا عملہ اس دوران اپنے کام میں مصروف رہتا۔ روشنی کے بڑھنے کے ساتھ ہی پطرس بخاری نے جس مخلوق کا تذکرہ اپنے مضمون میں کیا (کتے) اپنی اپنی غزلیں سنا کو غائب ہو گئے تھے، لیکن وردی میں ملبوس مخلوق پہلے سے زیادہ چاک و چوبند موجود تھی۔ چڑھتے سورج کے ساتھ ان کی نفری میں اضافے کے ساتھ نقل و حرکت کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا تھا۔

اس ’’مینار نما‘‘ کے دائیں بائیں خار دار تار ہیں۔ خاکی وردی میں ملبوس بھارتی سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہمہ وقت کسی ’’ممکنہ خطرے‘‘ سے نمٹنے کے لیے چوکس رہتے ہیں۔ لفظوں اور اصطلاحات کی بھی کیا درگت بنتی ہے۔ بھارتی سیکورٹی فورسز یعنی ’’محافظ فوجیں‘‘ جن کے قہر اور ظلم کی داستانیں سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ انھیں ’’محافظ افواج‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کیاخوب منطق ہے۔ ؎ جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

 (ڈاکٹر ظفر حسین ظفرؔ کی تصنیف ’’وادیٔ گل پوش میں، جموں و کشمیر:2009ء  ایک رودادِ سفر‘‘ سے مقتبس) –   

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s